Posts

Showing posts from September, 2023

وادی کے4 اْردو صحافی نیشنل ایوارڈ کے لئے منتخب، منتخب صحافیوں میں بشارت رشید,اعجازڈار،محمد اشرف گنائی اور ساحل اقبال شامل

Image
  سری نگر//یکسچینج فار میڈیا گروپ کی جانب سے 40انڈر40میڈیا ایوارڈس 2022کیلے وادی کشمیر کے 4 اردو صحافیوں کو اس نیشنل ایوار ڑ کے لئے منتخب کیا گیا ہیاور یہ چاروں صحافی جنوبی کشمیر کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں جو الگ الگ میڈیا اداروں سے سے وابستہ ہیںکشمیر نیوز سروس( کے این ایس ) کے مطابق ان صحافیوں میں محمد۔اشرف ساکن کولگام (ای ٹی وی بھارت،جموں بیورو)، اعجاز احمد ساکن پلوامہ (تعمیل ارشاد ملٹی میڈیا) اور بشارت رشید ( آن لائن ایڈیٹرسرینگر میل)ساحل اقبال ساکن کوکر ناگ اننت ناگ کو حتمی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان چاروافراد کو مبتخب ہونے پر مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے مبارک باد پیش کی ہے۔ادھر جنرلسٹ ایسو سی ایشن ترال نے اپنے ساتھی بشارت رشید کو ایوارڈ کے لئے منتخب ہونے پر دلی مبارک باد پیش کی ہے۔ادھر روز نامہ سرینگر میل کے عملہ ادارات نے بھی بشارت رشید کو اس اہم کامیابی کے لئے مبارک باد پیش کی ہے خیال رہے ان صحافیوں کو اس ایوارڑ کے لئے کئی انٹع ویوز سے گزرنا پڑا ہے۔ ادھر انجمن اردو صحافت نے بھی اپنے ایک بیان میں سبھی صحافیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوے امید کرتی ہے...

او بی سی کوٹہ اور 2024 سے خواتین ریزرویشن بل کے نفاذ پر بی جے پی کا پردہ فاش: کانگریس

Image
 نئی دہلی: کانگریس نے جمعہ کو الزام لگایا کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے خواتین کے ریزرویشن بل کو لاگو کرنے اور دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لیے علیحدہ کوٹہ مقرر کرنے سے متعلق ترامیم کو مسترد کرنے سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اصل ارادے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے موقف سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ خواتین ریزرویشن بل لانے کی ساری مشق محض انتخابی مسئلہ بنانے کے لیے تھی۔ راجیہ سبھا نے لوک سبھا اور ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن فراہم کرنے کے لیے آئین (ایک سو اٹھائیسویں ترمیم) بل، 2023 کو منظوری دے دی۔ ایوان میں موجود تمام 214 ارکان پارلیمنٹ نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے ساتھ ہی اس بل کو پارلیمنٹ کی منظوری مل گئی۔ لوک سبھا نے بدھ کو ہی اسے پاس کیا تھا۔ جے رام رمیش نے ایکس پر پوسٹ میں لکھا ’’کانگریس پارٹی نے کل رات راجیہ سبھا میں خاتون ریزرویشن بل میں ترمیم کی تجویش پیش کی۔ ان ترامیم سے یہ یقینی ہوتا کہ خواتین کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے ہی ریزرویشن فراہم کیا جائے۔ ایس سی اور ایس ٹی طبقا...

بی جے پی نے رمیش بدھوڑی کو بھیجا ’وجہ بتاؤ نوٹس‘، دانش علی نے لوک سبھا اسپیکر کو لکھا خط

Image
 لوک سبھا میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ رمیش بدھوڑی کے ذریعہ بی ایس پی رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف نازیبا اور غیر آئینی تبصرہ کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ ایک طرف بی جے پی نے اپنی ہی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیا ہے، اور دوسری طرف دانش علی نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر بدھوڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 21 ستمبر کو لوک سبھا میں چندریان-3 کی کامیابی پر جاری بحث کے دوران رمیش بدھوڑی نے اپنے ساتھی رکن پارلیمنٹ دانش علی کے خلاف بے حد شرمناک اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا تھا۔ اس کے بعد اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے لگاتار بدھوڑی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس درمیان بی جے پی نے بدھوڑی کو وجہ بتاؤ نوٹس بھیجا ہے اور 15 دن کے اندر اس کا جواب مانگا ہے۔ پارٹی نے پوچھا ہے کہ غیر پارلیمانی زبان استعمال کرنے کے لیے کیوں نہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے؟ دوسری طرف دانش علی نے جمعرات کو لوک سبھا میں ہوئے واقعہ پر خفگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے امید ہے میرے ساتھ انصاف ہوگا اور اسپیکر صاحب کارروائی کریں گے۔ ا...

نماز کی فرضیت صرف علمائِ دین پر تھوڑی نہ ہے!

  سیف علی شاہ عدمؔ بہرائچی  نماز بنیاند اسلام میں سے اس میں کسی کو کوئی شک نہیں مگرایمان میں چند ایسی چیزیں عملی ہیں یعنی انہیں صرف دل سے مان لینا ہی کافی نہیں بلکہ ان دو جسمانی طور پر ادا کرنے سے ہی فرضیت ادا ہوتی ہے ورنہ تو کوئی بھی مسلمان نماز کے فرض ہونے کا انکار نہیں کرتا اور کوئی کرے بھی تو وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا ۔ نماز کے لئے مسلمانوں کو بار بار کہنا ہی مسلمانوں کی بے عزتی ہے ۔بحیثیت مسلمان نماز اس وقت پڑھنا جب کوئی زبردستی مسجد لے جائے یہ تو ایک بہت بڑی غفلت اور دین سے دوری ہے ۔نماز ایک ایسا عمل ہے جس سے زندگی کے ہر حصے میں سکون واطمنان حاصل کیا جاسکتا ہے ۔نماز ہی سے لوگ برائیوں سے بچنے کا ہنر سیکھ سکتے ہیں مگر آج کے اسلامی ماحول کا معائنہ کرنے کے بعد تو ایسا لگتا ہے کہ شاید انہیں نماز کی فرضیت کا علم ہی نہیں ۔بحر حال جو بھی ہو نماز تمام مسلمانوں کے لئے دن میں پانچ مرتبہ پڑھنا فرض ہے ۔ آج ہمارے معاشرے میں نماز کو ایک ایسا عمل سمجھتا جاتا ہے کہ جس کو صرف اور صرف علماء اکرام اور مدارس کے طلباء کے لئے ہی جیسے خاص کر دیا گیا ہو۔آج آپ اپنے ارد گردکا مشاہدہ کر یںگے تو...

کیا تبلیغ دین کا کام چراغ علم سے محروم افراد بھی کرسکتے ہیں؟؟

Image
  انوار الحق قاسمی    تبلیغ دین کس چیز کا نام ہے ؟تبلیغ دین نام ہے دین سے نا آشنا افراد تک دین اسلام کی صحیح تصویر پہچانے کا۔اور دین اسلام کی صحیح تصویر کون پہنچاسکتاہے؟دین اسلام کی صحیح تصویر وہی پہنچا سکتاہے،جسے دین اسلام کا صحیح علم ہو:یعنی عالم الدین والشریعة ہو۔موجودہ دور میں عالم الدین والشریعة کسے کہاجاسکتاہے؟موجودہ دور میں عالم الدین والشریعة اسے کہاجاتاہے،جو کسی مستند ادارہ سے سند فضیلت حاصل کیاہو یا کم از کم  کسی سے صحاح ستہ کی کتابیں پڑھی ہو۔ کیا ایسے شخص کو بھی  عالم الدین والشریعة کہہ سکتے ہیں:جو تبلیغی جماعت میں تین دن،دس دن، چالیس دن،چار ماہ یا ایک سال وقت لگایا ہو؟ موجودہ دور میں عالم الدین والشریعة کہلانے کے لیے مدارس اسلامیہ میں کم از کم نو(9)سال کی مدت میں مختلف علوم وفنون کی کتابیں پڑھنی پڑتی ہیں،جن میں صحاح ستہ بھی شامل ہیں اور تبلیغی جماعت میں اتنا وقت بھی نہیں لگتا اور نہ ہی یہ سب  کتابیں  پڑھائی جاتی ہیں۔ جب تبلیغی جماعت سےوابستہ  اکثر افراد عالم الدین والشریعة نہیں ہوتے ہیں (کیوں کہ عالم الدین والشریعة بننے کے لیے  جا...
Image
 
Image
 
Image
 

آواس یوجنا کے نام پر گھوٹالا ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمیشنر کی تحقیق خوش آئند:عوام

Image
  دانش اقبال جموں //ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمیشنر ڈوڈہ فلیل سنگھ نے پنچایت روتی پدرنہ کا دورہ کر کے آواس یوجنا کے تحت مکانات کی  تعمیر کا بغور جائزہ لیا جہاں موصوف نے معتدد ایسے کیسز کی ویری فکیشن کی جو غیر مستحق افراد کے نام کئے گئے تھے ـ  محکمہ دیہی ترقی کی ملی بھگت کی پول کھولنے پر پنچایت کی عوام نے اے سی ڈی فلیل سنگھ کی کارروائی کو سراہا اور اُمید ظاہر کی موصوف دیہی ترقی میں مزید خرد برد کو طشت از بام کرکے مستحقین کو اُن کا حق دلانے میں مدد گار ثابت ہونگے ـ عوام کا کہنا تھا کہ رشوت ستانی اور گھوٹالا بازی کے اِس دور میں ایسے آفیسران عوام کیلئے کسی مسیحا سے کم نہیں ہیں ـ لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسے انصاف پسند آفیسران کی سماج کو اشد ضرورت ہے اور سماج کے ہر فرد کا فرض ہے کہ ایسے آفسیران کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ انصاف کا بول بالا ہو جائے ـ