نماز کی فرضیت صرف علمائِ دین پر تھوڑی نہ ہے!
سیف علی شاہ عدمؔ بہرائچی
نماز بنیاند اسلام میں سے اس میں کسی کو کوئی شک نہیں مگرایمان میں چند ایسی چیزیں عملی ہیں یعنی انہیں صرف دل سے مان لینا ہی کافی نہیں بلکہ ان دو جسمانی طور پر ادا کرنے سے ہی فرضیت ادا ہوتی ہے ورنہ تو کوئی بھی مسلمان نماز کے فرض ہونے کا انکار نہیں کرتا اور کوئی کرے بھی تو وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا ۔ نماز کے لئے مسلمانوں کو بار بار کہنا ہی مسلمانوں کی بے عزتی ہے ۔بحیثیت مسلمان نماز اس وقت پڑھنا جب کوئی زبردستی مسجد لے جائے یہ تو ایک بہت بڑی غفلت اور دین سے دوری ہے ۔نماز ایک ایسا عمل ہے جس سے زندگی کے ہر حصے میں سکون واطمنان حاصل کیا جاسکتا ہے ۔نماز ہی سے لوگ برائیوں سے بچنے کا ہنر سیکھ سکتے ہیں مگر آج کے اسلامی ماحول کا معائنہ کرنے کے بعد تو ایسا لگتا ہے کہ شاید انہیں نماز کی فرضیت کا علم ہی نہیں ۔بحر حال جو بھی ہو نماز تمام مسلمانوں کے لئے دن میں پانچ مرتبہ پڑھنا فرض ہے ۔
آج ہمارے معاشرے میں نماز کو ایک ایسا عمل سمجھتا جاتا ہے کہ جس کو صرف اور صرف علماء اکرام اور مدارس کے طلباء کے لئے ہی جیسے خاص کر دیا گیا ہو۔آج آپ اپنے ارد گردکا مشاہدہ کر یںگے تو آپ کو بہتر طریقے سے اس جہالت کا عمل ہو جائے گا ۔الحمد اللہ مجھے تعلیم ادارے سے جڑے ہوئے تقریبا ۱۱ سال ہو چکے ہیں میں تب سے لیکر آج تک اس بات کو ہزارہا بار دیکھا اور سنا ہے کہ کیسے مسلمانوں میں اب ایک غلط قسم کا عقیدہ رائج ہوتا جارہا ہے ۔بعض اوقات میرے ساتھ ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں جو کہ سننے میں کافی سنجیدہ لگتے ہیں اور اس پر توجہ دیا جائے تو پتا چلے گا کس قدر لوگوں میں جہالت عام ہوتی جارہی ہے ۔بعض دفعہ جب میں اپنے گاؤں رہتا تھا ایسا ہوا کہ مجھے مسجد جانے میں تاخیر ہوگئی بس کیا تھا دوستوں نے کہنا شروع کر دیا ’’بھائی آپ تو مدرسے میں پڑھتے ہو اور پھر بھی نماز کے لئے دیر کر رہے ہو ‘‘یاد رہے یہ کہنے والے وہ حضرات ہیں جو جمعہ اور عیدین کے علاوہ مساجد تب ہی نظر آتے ہیں جب کسی کی برسی وغیرہ کے لئے قرآن خوانی اور نیاز کا انتظام کیا جاتا ہے ورنہ تو انہیں مسجد تو جیسے کوئی مطلب ہی نہیں ۔یہ تو میرے ہم عمروں کی با ت ہوئی ایسا نہیںہے کہ یہ صرف نوجوانوں کی جہالت ہے بلکہ بعض دفعہ ایسا بھی واقعہ پیش آیا کہ جو چار بچوں کے باپ ہیں انہوں نے بھی ایسے رویے کا مظاہرہ کیا ہے ۔ایسا ہرگز نہیں ہے کہ یہ جہالت صرف اور صرف نماز کے ساتھ خاص ہے بلکہ روزے وغیرہ کے معاملے میں بھی یہ لوگ ایسے ہی کرتے رہتے ہیں جن کے خسارے کا انہیں علم نہیں ۔
نماز کو لیکر ایسی بہت ساری خرابیاں آج ہمارے معاشر ے میں عام ہے ۔نماز کو صرف اور صرف جمعہ اور عیدین کے لئے خاص کر نا ،نما ز کے طور طرائق نہیں معلوم ہونا ،نماز کے احکام نہیں جاننا اور جاننے والوں سے بے جا بحث کرنا عام ہو چکا ہے مگر ہمارے مسلمانوں کو اس بات کی کوئی فکر نہیں اور فکر تو بت ہوگی جب اس کے بارے غور وخوض کرنا شروع کریں گے ۔یادرہے نماز ہی وہ عمل ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کافروں اور مسلمانوں کے درمیان کا فرق بتایا ہے ۔نماز ہی وہ عمل ہے جس کا سوال سب سے پہلے کیا جائے گا ۔آپ کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ نماز صرف اور صرف علماء ِ اسلام کے لئے نہیں بلکہ تمام اللہ اور اس کے رسول کو ماننے والوں کے لئے فرض کیا گیا ۔ایک اہم بات نماز کو بہت سارے لوگ ایسا سمجھتے ہیں جیسا کہ اللہ رب العزت نے نماز کو ان پر بوجھ ہو کر مسلط کر دیا ہے ۔یاد رہے اسلامی احکام اور امور ایسے ہیں جن سے لوگوں کے اپنے فائدے حاصل ہو تے ہیںخواہ وہ ثواب حاصل کرنے کی صورت میں ہویا جسمانی یا روحانی فوائد ہوں ۔نماز پڑھنا ایک فرض عمل کے علاوہ بدن کی بہترین ورزش بھی ہے جسے ہم سائنس کے ذریعے بہترین انداز میں سمجھ سکتے ہیں ۔
چند دنوں قبل کی ایک بات ہے میرے ایک عزیز دوست ہیں موصوف کا نام سرا ج الدین ہے ۔وہ خاصا پڑھے لکھے تو نہیں اور نہ ہی میں نے اپنے ایام طفولیت میں انہیں کبھی اسلامی امور سے متصل دیکھا مگر جب ان سے اس مرتبہ بات ہوئی تو ایک حیران اور خوش کر دینے والی بات معلوم چلی جس سے میرے کلیجے ایک حد تک بہت خوشی میسر ہوئی ۔ہوا کہ جب میں نے انہیں فون لگایا تو انہوں نے جواب نہیں دیا میں نے پھر لگایا تو انہوں نے اٹھا یا میں نے پوچھا بسی تھے کیا ؟تو وہ بولے ہاں بھائی میں کام پہ ہوں ابھی تھوڑی پہلے ہی کام پہ لگا ہوں اس سے پہلے تو نماز پڑھنے گیا تھا …بس اتنا سنتے ہی میں نے سوچا کہ آج تو جمعہ بھی نہیں تو ضرور کوئی دوسری نماز کی ہی بات کرہے ہونگے پھر میں نے پوچھا کہ تم نے پڑھنا شروع کر دیا ہے کیا ؟تو انہوںنے بتایا جی بھائی چند مہینوں سے پڑھ رہا ہوں اور دوسروںکو بھی پڑھنے کے لئے بھی بولتا ہوںمگر …اکثر لوگ تو میری بات کو سن کر ان سنی کر دیتے ہیں ۔میں نے کہا ہاں بھائی صحیح ہے آج کل ایسا ہی چل رہا ہے وغیرہ وغیرہ …مالحاصل اس واقعے کے بعد مجھے بہت اچھا محسوس ہونے لگا کہ چلو میرے کسی دوست نے نماز پڑھنا شروع کر دیا ہے ۔بس کہنے کی بات یہی ہے کہ ابھی بھی اتنی دیر نہیں ہوئی کہ اپنی برائیوں کو اچھائیوں سے تبدیل نہ کیا جاسکے ،ہمیں اپنے اس دن کے بارے میں زیادہ سے زیادہ سوچنا چاہئے جب ہمیں اپنے اعمال کی فہرست پیش کی جائے گی اور ہم یہی کہیںگے ’’ربنا ابصرنا فارجعنا نعمل صالحا انا موقنون‘‘یعنی یا رب ہم نے سب کچھ دیکھ لیا اب ہمیں تو اس دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ ہم اچھے اعمال کریں …مگر افسوس یہ ممکن ہوگا اور یونہی عذاب میں جلنا ہوگا ۔وقت سے پہلے اپنا محاسبہ کرلینے میں ہی بھلائی اور بے شک جس نے تاخیر وہ صرف اور صرف پچھتاتا اور اس وقت اس کا یہ پچھتاوا کوئی فائدہ نہیں لاتا سوائے افسو س وملال کے ۔
نماز پڑھنے کی بات تو بہت بڑی ہے آج کل مسلمانوں کو نماز پڑھنے کا طریقہ تک معلوم نہیں ہوتا ۔بعض دفعہ میںنے خود اس بات کو بطریقہ تجربہ سمجھا ہے ۔ایک عام سی بات کوئی چاہے جتنا نہ چاہے لیکن کسی خاص کی موت ہو جائے تو پھر اس کی نماز جنازہ کے لئے ضرور حاضری دینی پڑتی (نماز جنازہ میں شرکت کرنا بہت بڑا ثواب ہے مگر بہت سارے لوگ اسے ایک رسم سمجھ کر بوجھ سمجھتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے اس میں شرکت کرتے ہیں حالانکہ ان کاموں میں خوشی خوشی آگے بڑھنا ہی اسلام کا نام ہے )اور جب انہیں نمازِ جنازہ میں شرکت کرنا ہوتا ہے توانہیں نماز کا طریقہ نہیں معلوم ہوتا ہے تو ان حضرات کو دیکھ کر نماز کی نقل کرتے ہیں جنہیں علم ہو یعنی ظاہرا تو وہ نماز ادا کرلیتے ہیں مگر حقیتۃ انہیں اس کاعلم تک نہیں ہوتا ۔اب جب ہمارے معاشرے میں مسلمان کی حالت اس قد رخراب ہے تو پھر اس کی طرف لوگ متوجہ کیوں نہیں ہیں؟کیوںانہیں علماء پر اعتراضات پیش کرنے میں انتہائی خوشی حاصل ہوتی ہے ؟کیوں لوگ ایسا سوچتے ہیں کہ ہر چیز کے ذمہ دار صرف اور صرف علماء اکرام ہیں حالانکہ اس کی کوئی حقیقت نہیں سوائے چند امورِ شریعیہ کے ۔یاد رہے ہمارے یہا ں کے وہ حضرات جو صرف جمعہ جمعہ اور عیدین پہ نماز ادا کرتے ہیں وہ سب کے سب ایک دوسرے کو دیکھ کر نقل کرتے ہیں الا ماشاء اللہ ۔ہمیں اپنی اس جہالت سے باز آجانا چاہئے ورنہ آنے والے دنوں بہت بڑا خسارہ جھیلنا ہوگا جس کے لئے ہمیں تیار ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے بلکہ خسارے کے آنے قبل ہی ِچاک وچوبند ہو جانا چاہئے تاکہ ایسی نوبت آئے ہی نہ ۔
بقول عدمؔ’’نماز دین ِ نبی کا ستون ہے یارو …نماز قلب وجگر کا سکون ہے یارو ‘‘نماز کی ایک بہت ہی عمدہ بات جس کو تجرات سے معلوم کیا سکتا ہے کہ نماز ایک ایسا عمل ہے جس سے دل کو خاصا اطمنان اور سکون حاصل ہوتا ہے ۔بعض دفعہ میں نے خود اس بات کا احساس کیا ہے کہ جب میں بہت پریشان ہو جاتا ہوں ،دل گھبرانے لگتا ہے ،من اضطرابیت کسی سی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے اور سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں اس وقت وضو کر کے نماز ادا کر نے میں ایک الگ ہی سکون ملتا ہے اگر آپ چاہیں تو اس عمل کر کے دیکھ سکتے ہیں ۔ایک دوسری بات یہ جس کو اللہ رب العزت نے قرآن میں صراحۃ ذکر کیا ہے ’’ان الصلوۃ تنھی عن الفحشاء والمنکر ‘‘یعنی بیشک نماز برائی اور ممنوعہ امور سے دور کرتی ہے ۔اس بات کا خیال رکھیں جب آدمی نماز پڑھنا شرو ع کردیتا ہے بالترتیب اس کی ادئیگی کا خیال رکھتا ہے تو پھر اس کو گناہ سے ایک نفرت سی محسوس ہوتی ہے وہ جب بھی گنا ہ کرنے کے قریب ہوتا ہے اس کا دل اس بات کو قبول کرنے گھبراتا ہے اور اس شخص کو اس گناہ سے بچنے کا موقعہ میسر ہو جاتا ہے ۔ایسی بہت ساری باتیں ہیں جنہیں ہمیں قبول کرنا ضروری ہیں خواہ ہم نماز پڑھنے کے عادی ہیں یا نہیں … اگر نہیں ہیں تو ہمیں آج ہی اس بات کا خیال آنا چاہئے کہ نماز صرف علماء اکرا م کے فرض نہیں بلکہ تمام امت مسلمہ پر فرض ہے … اللہ ہم سب کونماز علی وقتہ اہتمام کر نے اور دینی امور سے واقفیت عطا فرمائے ۔
متعلم جامعہ دارالہدی اسلامیہ ،کیرل
Comments
Post a Comment